تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی|
بعض شخصیات وقت کے دھارے میں پیدا ہوتی ہیں، کچھ تاریخ کے صفحات پر اپنا نام لکھتی ہیں، لیکن کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو زمانے کی پیشانی پر اپنی مہر ثبت کر دیتے ہیں۔ ان کی زندگی صرف ایک قوم، ایک سرزمین یا ایک مکتبِ فکر کی میراث نہیں رہتی بلکہ انسانیت کے اجتماعی شعور کا حصہ بن جاتی ہے۔
رہبرِ شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای رحمۃ اللہ علیہ بھی انہی عظیم شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی پوری زندگی ایمان، علم، استقامت، عبادت، تقویٰ، شجاعت، بصیرت، صبر، مجاہدت اور امت کی خدمت سے عبارت تھی۔ ان کے شب و روز اقتدار کی آسائشوں میں نہیں بلکہ ذمہ داریوں کے بوجھ تلے گزرے۔ وہ اپنے لیے نہیں جئے، بلکہ ایک فکر، ایک مقصد اور ایک امت کے لیے جیتے رہے۔
ان کی آواز میں صرف الفاظ نہیں ہوتے تھے، ایک ملت کی امید بولتی تھی۔ ان کی نگاہوں میں صرف سیاست نہیں ہوتی تھی، بلکہ مظلوم انسانیت کا درد موجزن ہوتا تھا۔ ان کے فیصلوں میں صرف حکمت نہیں ہوتی تھی بلکہ ایمان کا یقین اور خدا پر کامل توکل جھلکتا تھا۔
وہ منبر پر بھی وہی تھے جو محراب میں تھے، اور محراب میں بھی وہی تھے جو میدانِ جہاد میں تھے۔ ان کی زبان پر قرآن تھا، دل میں اہلِ بیتؑ کی محبت تھی، نگاہ میں امت کا مستقبل تھا اور قدموں میں استقلال کی وہ عظیم داستان تھی جس نے دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کو حیران کر دیا۔
پھر وہ لمحہ آیا جب ظلم نے ایک مرتبہ پھر حق کی آواز کو خاموش کرنے کی کوشش کی۔ جسم کو زخمی کیا جا سکتا ہے، خون بہایا جا سکتا ہے، مگر وہ فکر جس کی بنیاد اخلاص اور خدا پر ہو، اسے کبھی قتل نہیں کیا جا سکتا۔ شہادت نے ان کی زندگی کا اختتام نہیں کیا، بلکہ ان کے پیغام کو نئی حیات عطا کر دی۔
ان کی جدائی نے صرف ان کے چاہنے والوں کو ہی نہیں رلایا بلکہ دنیا کے مختلف معاشروں میں ایسے بے شمار افراد بھی غم زدہ دکھائی دیے جو ان کے مذہب یا مکتبِ فکر سے تعلق نہیں رکھتے تھے، لیکن ان کی استقامت، سادگی، ظلم کے مقابلے میں ڈٹ جانے کی جرأت اور مظلوموں کی حمایت سے متاثر تھے۔ یہی کسی عظیم انسان کی پہچان ہوتی ہے کہ اس کی عظمت سرحدوں، زبانوں اور عقیدوں کی قید سے بلند ہو جاتی ہے۔
غم کا یہ سمندر آج بھی تھما نہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہر آنکھ میں ایک سوال ہے، ہر دل میں ایک خلا ہے، ہر دعا میں ایک آہ ہے، ہر سجدے میں ایک اشک ہے۔ دل ماننے کو تیار نہیں کہ وہ چہرہ اب نگاہوں کے سامنے نہیں آئے گا، وہ آواز اب کانوں میں نہیں گونجے گی، وہ حکیمانہ نصیحتیں اب براہِ راست سنائی نہیں دیں گی۔
مگر شاید اولیائے خدا کا یہی مقام ہوتا ہے۔ وہ اپنے جسمانی وجود سے زیادہ اپنے کردار کے ذریعے زندہ رہتے ہیں۔ ان کی قبریں خاموش ہوتی ہیں مگر ان کے افکار بولتے رہتے ہیں۔ ان کے لب ساکت ہو جاتے ہیں مگر ان کا پیغام نسلوں کے ضمیر کو جگاتا رہتا ہے۔ ان کی شہادت ختم نہیں کرتی، بلکہ انہیں ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیتی ہے۔
آج اگر کوئی پوچھے کہ ایک انسان کی اصل طاقت کیا ہوتی ہے، تو جواب یہی ہوگا کہ نہ لشکر، نہ دولت، نہ اقتدار اور نہ ہی دنیا کی چکاچوند؛ بلکہ خلوص، ایمان، عدل، استقامت اور خدا کی رضا کے لیے گزاری ہوئی زندگی۔ یہی وہ دولت ہے جو موت کے بعد بھی انسان کو دلوں کا بادشاہ بنا دیتی ہے۔
رہبرِ شہید کی یاد صرف آنکھوں کو اشکبار نہیں کرتی بلکہ ضمیر کو بیدار کرتی ہے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حق کی راہ کبھی آسان نہیں ہوتی، مگر جو شخص خدا کے لیے کھڑا ہو جائے، تاریخ اس کے قدموں کے نشان مٹا نہیں سکتی۔
شہداء مرتے نہیں، وہ زندہ ضمیر قوموں کی دھڑکن بن جاتے ہیں۔ ان کا خون مٹی میں جذب نہیں ہوتا بلکہ آنے والی نسلوں کی رگوں میں غیرت، عزت، آزادی، ایمان اور حریت کا چراغ بن کر دوڑتا رہتا ہے۔
اے رہبرِ شہید! آپ کا جسم اگرچہ ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو گیا، مگر آپ کا کردار آج بھی زندہ ہے، آپ کی استقامت آج بھی زندہ ہے، آپ کی مجاہدانہ روح آج بھی زندہ ہے، آپ کی دعائیں آج بھی زندہ ہیں، آپ کا پیغام آج بھی زندہ ہے، اور جب تک دنیا میں ظلم کے خلاف کوئی مظلوم سینہ تان کر کھڑا ہوگا، آپ کی یاد اس کے حوصلوں میں سانس لیتی رہے گی۔
اللہ تعالیٰ آپ کے درجات کو بلند سے بلند تر فرمائے، آپ کو اپنے مقرب بندوں، انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ محشور فرمائے، اور ہمیں بھی حق، عدل، استقامت اور خدا پر توکل کی اسی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔









آپ کا تبصرہ